جامعہ احسن البنات
علم اور تعلیم پر اسلام نے بہت زور دیا ہے اور
مختلف انداز میں اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اسلام میں علم کی اہمیت کی اس سے بڑی
اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم پر اللہ کی جانب
سے جو پہلا پیغام نازل ہوا وہ ایمانیات، عبادات اور اخلاقیات کا نہیں
بلکہ"اقرا"سے شروع ہوتا ہے چھوٹی چھوٹی پانچ ابتدائی آیتوں میں دو مرتبہ
امر کا صیغہ وارد ہوا ہے۔ ان آیتوں میں "قلم" کا بھی تذکرہ ہے جو تحفظ
علم کا ایک اہم آلہ ہے نیز تعلیم کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف کی گئی ہے اور اس کے نام سے تعلیم
جوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس پہلی وحی کے بعد 23/ سال تک قرآن نازل
ہوتا رہا اس میں جگہ جگہ علم کی ترغیب حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اہل علم کی
رفعت شان کا تذکرہ تدبر و تفکر کی دعوت عقل و شعور سے کام لینے کی تلقین جہالت و
نا خواندگی دور کرنے اورعلم و معرفت کا شمعیں جلانے کی ہدایت کتمان علم کی مذمت
اور ان جیسے موضوعات پر مشتمل آیتیں ملتی ہیں،احادیث نبویہ کے ذخیرے میں دیکھیں تو
جگہ جگہ حصول علم کی ترغیب تبلیغ علم اور تعلیم کا حکم دینے والوں کی قدرو منزلت
کا بیان طالبانِ علِم نبوت کی حوصلہ افزائی کا تذکرہ ان کے ساتھ حسن سلوک اورخیر
خواہی کی وصیت موجود ہے۔
دنیا کے دوسرے مذاہب نے علم کو مردوں کی
میراث بناکر پیش کیا ۔ کیوں کہ ان کی نظرمیں عورت کسب فضیلت اور کمال کی مستحق
نہیں ۔مگر اسلام نے مرد عورت دونوں کی طلب علم کا حکم دیا ہےاس معاملہ میں کسی کو
کسی پر فوقیت اور امتیاز نہیں ہے۔ اس لئے علم ہی روشنی ہے جس کے وجود میں آتے ہی
جہالت و ضلالت کی تاریکی چھٹنا شروع ہو جاتا ہے اور جائزو ناجائز حق و باطل سنت
اورغیر سنت کے درمیان تفریق کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ مگر آج جب کہ غیر مسلم عورتیں
مردوں کے شانہ بہ شانہ تعلیم حاصل کررہی ہیں وہیں مسلم لڑکیاں علم کے میدان میں
بہت پیچھے ہیں ۔
یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ انسان کی تعلیم و
تربیت میں عورت کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ اس لئے ماں کی گود کو پہلی درسگاہ کا درجہ
حاصل ہے۔اسی درسگاہ میں انسان کی تعلیم و تربیت کی اصلی بنیاد ڈالی جاتی ہے۔جس پر
آئندہ زندگی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔اس لئے یہ بنیاد جس قدر مضبوط ہوگی اسی قدر
عمارت مضبوط ہوگی یعنی ماں کی تعلیم و تربیت صحیح دھنگ سے ہوئی ہوگی تو ان گود میں
پرورش پالنے والی اولاد بھی زیورتعلیم و تربیت سے آراستہ ہوگی اس کے برعکس ماں کی
تعلیم ناقص ہے یاغیر تعلیم یافتہ ہے تو بچے کی تعلیم و تربیت کا کیا حال ہوگااس کا
اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے۔اسی لئے کہاجاتا ہے ایک لڑکے کی تعلیم محض ایک فرد کی
تعلیم ہے اور ایک لڑکی کی تعلیم ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک خاندان کی تعلیم ہے۔
لہذا تعلیم نسواں دورِحاضر کی اہم ضرورت ہے لیکن مخلوط تعلیم بہت سارے فتنوں کو
جنم دینے اور مسلم معاشرے کی تباہ برباد کرنے کی مترادف ہےان حقائق کے باوجود
ہمارے ضلع کٹیہار کے اندر تعلیم نسواں کی
طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی اور آج تک لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کامناسب
انتظام نہ ہوسکااللہ سبحانہ وتعالیٰ کا
شکر ہے کہ چند مخلصین غیور اورحوصلہ مند احباب نے اس پر انتہائی دردمندی سے
غوروفکر کیااور اس ملی تقاضے کی طرف خصوصی توجہ دی اور تعلیم نسواں کے لئے ایک
ادارے کی داغ بیل ڈالنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے بفضلہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد
عبدالمنان رضویؔ صاحب حفظہ اللہ تعالی کے آبائی وطن ہرنات پورمیں زمین حاصل ہوئی
اور جھونپڑی کی شکل میں مدرسہ کی عمارت کھڑی کردی یہ مدرسہ ابھی چھوٹاسا ادارہ ہی
کہلائے گا، آنے والے وقت میں اس پورے علاقے میں ایک زبردست تعلیمی انقلاب برپاکرنے
میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا ان شاء اللہ عزوجل۔
فی الحال درجہ اطفال سے حفظ قرات اور درجہ
عربی سوم تک انتظام ہے جس میں لڑکیوں کی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہندی، انگریزی
،حساب،سماجیات،اوراردو زبان پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اس کےعلاوہ سلائی ،کڑھائی ،دستکاری کا بھی نظام
نسق ہے۔ مستقبل قریب میں ثانویہ یعنی
میٹرک کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیاجائیگااور اس کے علاوہ 2000طالبات کے
لئےقیام وطعام،تعلیم و تربیت کا انتظام بھی ہمارے عزائم
میں شامل ہے۔ بلاشبہ اس مدرسے کی حیثیت قرب و جوار کے تعلیمی اندھیرے میں روشنی کی
ایک کرن ہے اور خدمت خلق اورتعلیم نسواں کے فروغ میں دلچسپی رکھنے والے مخیرحضرات
نے خصوصی توجہ دی تو ان شاء اللہ یہ مدرسہ جلد ہی تعلیمی وتربیتی میدان میں اپنی
ایک واضح شناخت بنالے گا۔
محترم حضرات! ہم اپنی بے سروسامانی اورکم
مائیگی کے باوجود اتنی بڑی ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے کے لئے ہمت بلند
اور حوصلہ جواں رکھتے ہیں ،کیونکہ ہمیں اللہ کی مدد،مومنین پر رحم و کرم فرمانے
والےآقا ﷺ کی نظرِعنایت اور آپ کی خندہ
پیشانی کشادہ قلبی اور مالی تعاون پر مکمل یقین ہے۔
لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنے عزائم و
وسائل اور قیمتی مشوروں سے ہمارے دامن کو بھردیں۔ اللہ آپ کے حسنات کو قبول فرمائے
سیات کو در گزر فرمائےاور صحت و عافیت کے ساتھ تا دیر قائم رکھے ساتھ ہی دین متین
کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
اللھم وفقنا لما تحب وترضیٰ
اپیل کنندہ:۔ آل رسول احمد الاشرفی
القادری مقیم حال:۔ ریاض سعودی عرب
موبائل نمبر: +966559465397 مولانا عبدالمنان صاحب+918406871571
ایک نظر
ادھر بھی
آپ
مختلف طریقوں سے مدرسہ کا تعاون کرسکتے ہیں چیک کے ذریعے یا بنک اکاؤنٹ میں بھی جمع کرسکتے
ہیں نیز آپ مدرسہ کو تعمیراتی اشیاء جیسےسیمنٹ، سریا ، اینٹ، بالو وغیرہ فراہم کرکے
یا عمارت میں ایک یا چند کمرے کا خرچ اپنے ذمے لے کر یا اشیاء خوردنی جیسے چاول،
دال، آٹا وغیرہ فراہم کرکے یا ایک یا ایک سے زیادہ معلمہ (استاذ) کے تنخواہ اپنے
ذمہ لے کر یا کسی طالبہ کا حافظہ مکمل ہونے تک یا عالمیت کی دستار تک یا کسی یتیم طالبہ کی پوری پڑھائی کا خرچ اٹھاکر تعاون کرسکتے ہیں ۔ زکوۃوصدقات وعطیات
کے علاوہ اپنے مرحومین کی طرف سے برائے ایصال ثواب مدرسہ کے تعاون میں حصہ لے سکتے
ہیں اور آپ بذریعہ کیش تعاون کرنا چاہیں
تو ہم لوگوں سے رابطہ کریں ۔
مولانا عبدالمنان صاحب موبائل نمبر :+91
84 06 87 15 71
آل ِرسول احمد (سعودی عرب) موبائل
نمبر:+966
55 94 65 397
E-mail: jamiaahsanulbinat@gmail.com
Please
Visit: www.Jamiaahsanulbinat.blogspot.com
Md. Abdul Mannan
Mobile No
+91846871571
E-mail
Aale Rasool Ahmad
Mobile No
+966559465397
State Bank of India
Account Number
315 313 14537
A/c Name
Ale Rasool
Branch Name
Barsoi
Skype Id
aale.ashrafi
Facebook
Twitter
@aaleashrafi
E-mail
aalerasoolahmad@gmail.com
Address:
Jamia Ahsanul Binat
Harnatpur P.o Balia
Belown Via Salmari
District Katihar Bihar
Pin: 854317 India
Note: if
will be create any problem to donate for Jamia Please contact us by Mobile
& Email and after donate inform .
No comments:
Post a Comment